پڑھیئے راجہ محمد زبیر بھٹی کاکالم: پنڈی کوٹلی سفر کی خواریاں

کوٹلی آزاد کشمیر اور راولپنڈی کے درمیان 1947سے قبل پیدل آمدورفت ہوا کرتی تھی۔بعد ازاں انہی پیدل راستوں کو گینتیوں بیلچوں کی مدد سے ہموار کر کے سڑک کی شکل دے دی گئی۔ جدید دور میں سڑکیں بنانے والی بھاری مشینری دستیاب ہونے کی بنا پر دن بدن اس سڑک کو بہتر کیا جا رہا ہے۔فی زمانہ یہ سڑک کوٹلی کی ساڑھے چھ لاکھ کی آبادی کو ضروریات زندگی کا نصف سے زیادہ مال سپلائی کرنے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔کوٹلی کے لاکھوں افراد بیرونِ ملک سفر کے لیے اسی سڑک کو استعمال کرتے ہیں۔اس کے علاوہ کھوئی رٹہ سیکٹر سے لے کر ہجیرہ تک اور برف باری کے موسم میں ضلع حویلی تک تعینات پاکستانی فوج کو رسد بھی اسی راستے سے پہنچائی جاتی ہے۔ضلع کوٹلی کے تمام مریض اسی سڑک سے سفر کر کے پنڈی اسلام آباد کے ہسپتالواں میں علاج معالجے کے لیے جاتے ہیں۔یوں یہ سڑک اہلیانِ کوٹلی کے لیے زندگی کی ڈور کی حیثیت رکھتی ہے۔
راقم الحروف اس سڑک پر 1970کے اُس دور سے سفر کر رہا ہے جب یہاں GTSکی بسیں چلا کرتی تھیں۔تب یہ ایک پتلی سی سڑک تھی اور اس پر بندہ سات آٹھ گھنٹے میں پنڈی پہنچتا تھا۔گزشتہ چالیس برسوں میں اس سڑک کی حالت بالکل ویسی ہی رہی جیسی آج کل ہے۔ یہ روڈ کبھی بھی مکمل نہیں رہی۔ ہر دور میں اس کا کوئی نہ کوئی حصہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار رہا ہے۔اس کے مختلف حصے مرمت کرنے میں پانچ پانچ سال سے زیادہ وقت لگتا رہا ہے جب کہ مرمت شدہ سڑک کبھی ایک سال سے زیادہ نہیں چل سکی۔ہمیشہ زیر تعمیر رہنے کی وجہ سے اس پر گاڑیاں کبھی پوری رفتار سے نہیں چل پائیں۔ابھی ڈیڑھ سال قبل گلپور سے سہنسہ تک نئی روڈ بنائی گئی تھی جو حسب معمول ایک سال میں ہی ٹوٹنا شروع ہو گئی ہے اور اس پر ٹاکیاں لگائی جا رہی ہیں۔حیرت کی بات یہ ہے کہ سڑک بناتے ہوئے پہلے روڑی ڈالی جاتی ہے اور اس پر مٹی کی ایک تہہ جما کر اس کے اوپر لُک(کولتار) ڈالی جاتی ہے۔ مٹی کی یہ تہہ پتھروں اور لک کے مصالحے کو آپس میں جڑنے نہیں دیتی اور سڑک بنتے ہی اکھڑنا شروع ہو جاتی ہے۔آج تک کسی نے اس فارمولے کو بدلنے کی زحمت نہیں کی۔جن علاقوں میں سڑک زیر تعمیر رہتی ہے وہاں پر مسافروں کر سالوں خواری اور اذیت کا سامنا رہتا ہے۔ لوگ سردی، گرمی اور برساتوں میں گھنٹوں اپنی گاڑیوں میں بیٹھے سڑک کھلنے کا انتظار کرتے رہتے ہیں۔کہوٹہ پہلے ایک چھوٹا سا سٹیشن تھا۔گاڑی شہر کے اندر سے گزر جاتی تھی۔ اب یہ ایک بڑا شہر بن گیا ہے۔ کوٹلی پنڈی روٹ کی گاڑیاں اب گھنٹوں اس شہر میں پھنسی رہتی ہیں۔ خاص طور پر سکول کھلنے اور بند ہونے کے اوقات میں میں تو گاڑیاں دو دو گھنٹے بھی پھنسی رہتی ہیں۔اس سے آگے سہالہ کا پھاٹک بھی ایک بڑی خواری ہے۔پرانے زمانے میں یہ دن میں دو چار بار ہی بند ہوتا تھا اب ہر دو گھنٹے بعد یہاں سے ٹرین گزرتی ہے اور یہ بند ہوتا ہے۔ ریل گاڑی تو دس پندرہ منٹ میں گزر جاتی ہے لیکن سڑک یہاں سے تنگ ہونے کی وجہ سے گاڑیوں کو نکلنے میں گھنٹوں لگ جاتے ہیں۔ کسی کو آج تک توفیق نہیں ہوئی کہ اس مقام پرپٹڑی کے اوپر چھوٹا سا پُل بنا دے۔
پاکستان کے علاقے میں اس روڈ پر حساس تنصیبات کی وجہ سے ایک دو جگہ چیکنگ ہوتی تھی لیکن اب ایک نئی خواری پاور پروجیکٹ کی صورت میں سامنے آ گئی ہے۔ اب اس روٹ پر آتے جاتے درجنوں مقامات پت مسافروں کی شناخت چیک کی جاتی ہے جس سے خاصا وقت برباد ہو جاتا ہے۔اس کے علاوہ راستوں میں کبھی کبھار جلسے جلوس اور ریلیاں بھی ہوتی رہتی ہیں جن کی وجہ سے عوام خواری کا شکار ہوتے ہیں۔ان حالات میں لائیو سٹاک لانے لے جانے والوں کو خاصا نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے۔ایبولینس پر مریضوں کے لیے یہ سفر بہت کٹھن گزرتا ہے۔
ٹوٹی پھوٹی سڑک کی وجہ سے ٹرانسپورٹروں کو بھی بھاری نقصان کا سامنا رہتا ہے۔آئے ورز گاڑیوں کے پرزے شکست و ریخت کا شکار رہتے ہیں لیکن کیا مجال کہ ٹرانسپورٹرز نے کبھی اس کے خلاف احتجاج کیا ہو۔اس کی وجہ شائد یہ ہو کہ وہ اپنا سارا نقصان سواریوں سے پورا کر لیتے ہیں۔
پاور پروجیکٹ کی وجہ سے اب ہولاڑ کے مقام پر عوام کے لیے ایک نیا پُل بنایا جا رہا ہے لیکن بڑی حیرت کی بات ہے کہ شاہرات کے متعلقہ اتھارٹیز کے اذہان میں یہ بات نہیں آ سکی کی موجودہ حالات کے پیش نظر اس سڑک کا روٹ تبدیل کر دیں۔اگر سڑک کو روئتی راستے سے ہٹ کر کر تعمیر کیا جائے تو نہ صرف مسافروں کو سہولت ہو جائے گی بلکہ حکام کے لیے بھی آسانی ہو سکتی ہے۔اس سڑک کو کروٹ کی بجائے اس کے جنوبی پہاڑ ،جو بیور کے علاقے میں آتا ہے،پر منتقل کر دیا جاتا تو درمیان سے پاور پروجیکٹ اور کہوٹہ لیبارٹری نکل جاتے اورچیکنگ کانظام صرف ایک جگہ پل تک محدود ہو جاتا جہاں دونوں علاقوں کی انتظامیہ ایک ہی بار شناخت چیک کرتے اور عوام کو جگہ جگہ شناختی کارڈ چیک کروانے کی زحمت نہ اٹھانی پڑتی ۔ایسے میں حکام کوبھی ہر جگہ ناکے نہ لگانے پڑتے۔ویسے بھی متذکرہ بالا پہاڑی تک پہلے سے سڑک موجود ہے جسے مناسب ردوبدل کے ساتھ کوٹلی کی ٹریفک کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔آگے اسی راستے سے اس سڑک کو روات کے مقام پر جی ٹی روڈ سے جوڑا جا سکتا ہے۔مزید یہ کہ پہلے اسلام آباد کا ہوائی اڈہ پنڈی شہر میں تھا اس لیے ہمارے لوگوں کو کہوٹہ اور سہالہ کے راستے ہی گزرنا پڑتا تھا ۔اب جب کہ ہوائی اڈہ فتح جنگ منتقل ہوگیا ہے تو لوگوں کو پنڈی کا سارا شہر چھان کر اڈے تک پہنچنا ہوتا ہے جس میں تین چار گھنٹے لگ ہی جاتے ہیں۔ اگر پنڈی کوٹلی سڑک کو روات کے راستے گزرا جائے گا تو ایر پورٹ جانے والوں کو پنڈی شہر جائے بغیر گزرنا پڑے گا جس سے وقت اور وسائل کی بچت تو ہو گی ہی پنڈی انتظامیہ کے لیے شہر کے اند رٹریفک کا انتظام کرنے میں آسانی ہو جائے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں