پڑھیئے غضنفرعلی راجہ (سابق مرکزی چیئرمین کنوینگ کمیٹی نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن آزادکشمیر) کاکالم:میرانعرہ انقلاب وانقلاب وانقلاب

ء1973 میں گورنمنٹ ہائی سکول چکسواری میں ایک شانداراورپروقارتقریب ہورہی ہے ٗاسٹیج سیکرٹری نے چھٹی  جماعت کے ایک طالب علم کواظہارخیال کی دعوت دی ٗایک دُبلاپتلامگرچاک وچوبندلڑکااپنی نشست پرسے اٹھا ٗشرکاء نے اس کمسن مقررکاپرتپاک استقبال کیا اورجلسہ ہال تالیوں سے گونج اُٹھا۔یہ ہونہار لڑکا سکول کاذہین ترین طالب علم اوربلاکامقررتھا۔اس کی آنکھوں کی چمک بتاتی تھی کہ وہ بہت دوربین ہے۔اس کمسن مقررنے اتنے شانداراندازمیں اپنے خیالات کااظہارکیاکہ تقریب کے تمام شرکاء عش عش کراُٹھے۔مہمانِ خصوصی نے اپنی تقریرمیں کہاکہ یہ بچہ ایک دن ضرورمادرِ وطن کی خاطر عظیم کام کرے گا۔پھروقت نے ثابت کیاکہ وہ بچہ مادرِ وطن کی خاطر ہمہ تن مصروف جدوجہدرہا اورآج حریت پسندحلقوں خصوصاًطالب علم برادری کواس کی انتھک کاوشوں پرفخرہے۔یہ کمسن مگرہونہار وبلندعزم نوجوان ارشدمحمودتھا جواپنی چمکداراورتیزوطرازآنکھوں کی بدولت دوستوں کے حلقوں میں بِلُوکے نام سے جاناپہچاناجاتاتھا۔یکم اگست1961ء کواپنے آبائی گاؤں بوعہ کلاں میں پیداہوا۔ابتدائی تعلیم بوعہ کلاں ہی سے حاصل کی۔بعدازاں گورنمنٹ ہائی سکول چکسواری میں داخلہ لے لیا۔وہ سکول کاہونہارترین طالب علم تھا۔نصابی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ ہم نصابی سرگرمیوں میں بھی بڑھ چڑھ کرحصہ لیتاتھا۔تمام اساتذہ اسے انتہائی قدرکی نگاہ سے دیکھتے تھے۔1977ء میں میٹرک کاامتحان اعزازی نمبروں سے پاس کیا۔سکول کی تعلیم مکمل کرنے کے بعداسی سال گورنمنٹ ڈگری کالج میرپورمیں داخلہ لے لیا۔جب دل صداقت کے لیے دھڑک رہاہواورنگاہیں حق کی تلاش میں ہوں اورضمیرانسانیت کی معراج تک پہنچناچاہتاہوتوپھرمنزل کاتعین اورراہ کاانتخاب کوئی مسئلہ نہیں ہوتا۔چنانچہ ارشدبلونے کالج میں جموں وکشمیرنیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن جسے عمومی طورپراین ایس ایف کے نام سے جاناجاتاہے کے پرچم تلے قومی آزادی کی تاباں منزل کی جانب پہلاقدم اُٹھایا۔اس نے اپنی تمام ترصلاحیتیں،قوتیں اوروسائل خلوص دل کے ساتھ این ایس ایف کے لیے وقف کردیں۔بعدازاں نظریے کے ساتھ پختہ وابستگی کے پیش نظراس نے این ایس ایف کے پلیٹ فارم سے لاتعدادتحریکوں کومنظم کیا اورانہیں کامیابی سے ہم کنارکروایا۔آزادکشمیرمیں لینٹ آفیسروں کی آمد کے خلاف مزاحمتی تحریک ہویاپاکستانی تعلیمی اداروں میں کشمیری طلبہ کوتحفظ فراہم کیے جانے کی جنگ،آزادکشمیرمیں اعلیٰ تعلیمی فنی اداروں کے قیام کی جدوجہدہویاآمراورظالم حکمرانوں کے خلاف جہاد،ارشدبلوہمیشہ پیش پیش رہا۔اگرچہ موت کے بے رحم ہاتھوں نے اسے آزادکشمیرکے سیاسی اُفق پرزیادہ دیرتک چمکنے کی مہلت نہ دی مگرارشدبلونے اپنی جدوجہدکے اندازسے ثابت کردیاکہ وہ ان تھک سیاسی کارکن،دوربین راہ نما اورمضبوط اعصاب کامالک نوجوان ہے۔اگست1981ء میں میرپورکے ترقیاتی ادارے ایم ڈی اے کے خلاف تاریخ کی سب سے بڑی تحریک چلی۔تحریک کے آغازمیں تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین اورطلبہ تنظیموں کے راہ نماؤں کوگرفتارکرلیاگیا۔یوں شہرمیں سیاسی قیادت کاخلاء پیداہوگیا۔لوگ اپنے حقوق کے لیے سڑکوں پرنکل چکے تھے مگران کی قیادت کرنے والاکوئی نہ تھا۔ان حالات میں این ایس ایف نے میرپورکی عوام کوسیاسی قیادت ارشدبلوکی صورت میں پیش۔اس تحریک میں بلونے جس جانفشانی سے کام کیا اورایسے وقت میں جب نظم ونسق کی عدم موجودگی اورقیادت وسیاسی بصیرت نہ ہونے کے باعث تحریک دم توڑرہی تھی،اپنی سیاسی صلاحیتوں کے بل بوتے پراس ڈوبتی کشتی کوسہارادیا۔اس لیے کسی مختصرسے مضمون میں ارشدبلوکی صلاحیتوں کوخراجِ تحسین پیش کرنا،اس کی ذہنی قوتوں کااحاطہ کرنا،این ایس ایف کے لیے اس کی فقیدالمثال خدمات کوتحریرکرنااورترقی پسند غیرطبقاتی سماج کے قیام کی خاطراس کی انتھک،مخلصانہ جدوجہدکوبیان کرناقطعی طورپرناممکن ہے۔این ایس ایف کے لیے اس نے جوقربانیاں دیں اس کی بدولت وہ ہمیشہ ہمارے دلوں میں رہے گا۔ہمارایہ بہادرسرخ سپاہی22سال کی عمرمیں15دسمبر1983ء کی صبح اپنے ایک گہرے دوست کی سازش کاشکارہوکرخالق حقیقی سے جاملا اوراپنے پیچھے ایک صدائے بازگشت چھوڑگیاجوآج تک نہ صرف خطہ کشمیرمیں بلکہ جہاں جہاں غیوروحریت پسندکشمیری بستے ہیں اُن کے دلوں کی آوازہے:کام ہے میراتغیر،نام ہے میراشباب!میرانعرہ انقلاب وانقلاب وانقلاب۔ہرسال25دسمبرکواس عظیم قوم پرست راہ نماکایومِ شہادت عقیدت واحترام سے منایاجاتاہے جس میں آزادکشمیرکے طول وعرض سمیت کراچی تک سے این ایس ایف کے عظیم نظریات اورقومی آزادی،خودمختاری،ترقی پسندخوشحال معاشرے کے قیام کی عظیم جدوجہدسے جُڑے غلامی سے انکاری ہزاروں سُرخ پوش سپاہی اپنے عظیم ساتھی کوخراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے اُس کی آخری آرام گاہ بوعہ کلاں یونین کونسل ڈھانگری بالاضلع میرپورحاضرہوتے ہیں اورشہیدکے مزارپردعائیہ تقریب کاانعقادکیاجاتاہے،پھولوں کی چادرچڑھائی جاتی ہے۔بعدازاں نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن کے مرکزی راہ نماشہیدکی طلبہ حقوق کے لیے جدوجہد،معاشرتی ناانصافیوں اورآزادکشمیرکے طول وعرض میں نظریہ خودمختارکی آبیاری،دہلی ،اسلام آباداورمظفرآبادکے ایوانوں میں بیٹھے آزادی دشمن گماشتہ حکمرانوں کے خلاف اورکشمیرکی تاریخی حیثیت کے حوالہ سے اپنے تاریخی خطابات سے نوجوان نسل اورنظریہ خودمختارکشمیرکے علم بردار افرادکے ذہنوں کوجلابخشتے ہیں۔بلواب ہم میں نہیں مگراس کی عظیم جدوجہد اورشعلہ بارتقریریں آج بھی ہمارے لیے مشعل راہ ہیں۔بلونے جس اندازمیں این ایس ایف کے لیے کام کیاوہ ہمارے لیے مثال رہے گا۔بلوکانام این ایس ایف کے نام کی طرح امرہے۔ہرسال کی طرح امسال بھی25دسمبرکوشہیدارشدبلوکا35واںیومِ شہادت اُسی عقیدت واحترام اوراس عہدکے ساتھ منایاجائے گاکہ نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن کاہرسُرخ سپاہی قومی آزادی،خودمختاری،غیرطبقاتی سماج اورطلبہ حقوق کی بازیابی تک اپنی تاریخی جدوجہدجاری رکھے گا۔یہاں اس بات کاذکرکرنابھی ضروری ہے کہ ساڑھے تین دہائیوں سے زائدعرصہ گزرجانے کے بعدبھی نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن کے عظیم انقلابی دوست اپنے شہیدقائدکونہیں بھولے اوراُس کی وطن عزیزکے لیے تاریخی جدوجہدکے تناظرمیں علم اورشعورکے ہتھیاروں سے لیس تنظیم کاہرکارکن ریاست کے گلی کوچوں میں آزادی وخودمختاری کے پیغام کولیے وطن سے لازوال محبت کاعملی نمونہ بناہواہے۔ریاست میں طلبہ تنظیموں پرطویل عرصہ سے عائدپابندی بھی این ایس ایف کواپنے تاریخی مشن سے دورنہ کرسکی اوراین ایس ایف نے طلبہ حقوق کی بازیابی اورآزادکشمیرکے تعلیمی اداروں میں طلبہ تنظیموں پرعائدپابندی کے خلاف علم جہادبلندرکھااوراب جب کہ حکمران طبقہ گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوا اوراُسے تعلیمی اداروں یں طلبہ تنظیموں پرسے پابندی ہٹاناپڑی تواُمیدواثق ہے کہ ایک بارپھرریاست آزادی کے نعروں سے گونج اٹھے گی اورماضی کی طرح ایک بارپھرطلبہ سرُخ رنگی جھنڈے تلے جمع ہوکرمادرِ وطن کی حقیقی آزادی،خودمختاری،غیرطبقاتی سماج کے قیام کے لیے جاری جدوجہدکواپنے منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے کوئی کسراٹھانہیں رکھیں گے اوریہ صداریاست کے طول وعرض میں پہلے سے زیادہ طاقت کے ساتھ گونجے گی کہ’’ ارشدبلوہم تمہیں ہمیشہ یادرکھیں گے۔‘‘

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں