انسانی تاریخ میں پہلاقتل کس شخص کاہوا؟

یہ واقعہ انسانی تاریخ کا پہلا قتل ہے جب انسان اپنے غصے کی بھینٹ چڑھا۔ہابیل و قابیل کی داستان قرآن میں سورہ مائدہ میں بیان ہوئی ہے۔ یہ قصہ حضرت آدم علیہ السلام کے دو بیٹوں کا ہے۔ ان میں سے ایک کا نام ہابیل اور دوسرے کا قابیل تھا۔ قابیل عمر میں بڑا تھا اور کھیتی باڑی کیا کرتا تھا۔یہ مزاج کے اعتبار سے تیز اور فطرتا برائی کی جانب راغب تھا۔ اس کا چھوٹا بھائی ہابیل اس کے برعکس تھا۔وہ نیک سرشت، متقی اور منکسر المزاج تھا۔اس کاپیشہ وہ بھیڑ بکریاں چرانا تھا۔ ایک دن اللہ کی جانب سے دونوں کو حکم ہوا کہ وہ اللہ کے حضور قربانی پیش کریں تاکہ علم ہوجائے کہ کون اللہ کے نزدیک زیادہ متقی اور مقبول ہے۔قدیم زمانے میں قربانی کی قبولیت کی یہ علامت ہوتی تھی کہ جس کی قربانی کو آسمان سے ایک آگ آکر جلادے اس کی قربانی اللہ قربانی اللہ کے نزدیک قبول ہوگئی ہے۔چنانچہ دونوں نے قربانی پیش کی۔ ہابیل یوں بھی نیک سیرت اور اللہ سے ڈرنے والا انسان تھا۔چنانچہ اس نے نیک نیتی کے ساتھ خالص اللہ کی رضا کے کے لئے اپنے گلے کی بہترین پہلوٹھی کی بھیڑ اللہ حضور قربا ن کرکے پیش کردی۔ دوسری جانب قابیل ناقص اور ردی قسم کا اناج لے کر آیا۔ اس کے دل میں یہ بات تھی کہ اگر قربانی مقبول ہوگئی تو اس اناج نے ویسے بھی جل جانا ہے تو اچھی فصل کو برباد کرنے کا کیا فائدہ۔ اب دونوں دور ہٹ کر خداکے فیصلے کا انتظار کرنے لگے۔پھر اچانک آسمان سے ایک آگ نازل ہوئی اور اس نے ہابیل کی قربان کی ہوئی بھیڑ کو جلاڈالا جبکہ قابیل کا اناج جوں کا توں پڑا رہا۔یوں فیصلہ ہوگیا کہ خدا ہابیل اور اسکی قربانی سے راضی اور قابیل سے ناخوش ہے۔ جب قابیل کی قربانی مردود ہو گئی تو اس کا طیش انتقام میں بدل گیا اور اس نے علی الاعلان اپنے بھائی ہابیل کو جان سے مارنے کی دھمکی دے دی۔ اس کا جواب ہابیل نے بڑی برد باری سے یہ دیا۔اگر تمہاری قربانی قبول نہیں ہوئی تو اس میں میرا کیا قصور ہے؟ بلکہ تمہیں تو یہ چاہیے تھا کہ پرہیزگاری کی راہ اختیار کرتے اس صورت میں شاید تمہاری قربانی قبول ہو جاتی اور اگر تم مجھے مارنے پر ہی تلے ہوئے ہو تو میرا ایسا قطعاً کوئی ارادہ نہیں ہے میں بہرحال اس معاملہ میں ہاتھ نہیں اٹھاؤں گا (یعنی پہل نہیں کروں گا)کیونکہ میں اسے بہت بڑا ظلم سمجھتا ہوں۔قابیل نے اپنے بھائی کی باتیں سنیں تو کچھ عرصہ ان پر غور کرتا رہا، لیکن بالآخراس کے نفس اور شیطان نے سبز باغ دکھا کر اس بات پر آمادہ کر ہی لیا کہ وہ اپنے بھائی کا قصہ پاک کر دے اور اپنی حسد کی آگ کو ٹھنڈا کرے۔ پھر ایک دن موقع پاکر قابیل نے اپنے بھائی کو مار ڈالا۔ لیکن اب یہ مسئلہ تھا کہ وہ اس لاش کو کیا کرے اور کہاں چھپائے کیونکہ لاش میں سڑانڈ اور بدبو پیدا ہونے لگی تھی۔ اسی اثنا میں اس نے دیکھا کہ ایک کوا اپنے مردہ بھائی کی لاش کو زمین میں دفن کررہا ہے۔اس وقت وہ سوچنے لگا کہ مجھ میں اس کوے جتنی بھی عقل نہیں۔ بہرحال اس نے بھی زمین میں گڑھا کھود کر اپنے بھائی کی لاش کو زمین میں دبا دیا۔ جب وہ لاش دفن کرچکا تو اب اس کا نفس اسے ملامت کرنے لگا کہ ایک نیک سیرت اور شفیق بھائی اس سے ہمیشہ کے لیے جدا ہو گیا اور اس بات پر بھی اسے ندامت ہوئی کہ اس نے اپنے بھائی کو قتل کر کے انتہائی وحشیانہ حرکت کا ارتکاب کیا ہے۔قرآن کے بیان کے مطابق ہابیل اور قابیل میں اختلاف اس وقت پیدا ہوا جب ہابیل کی قربانی کو قبول کرلیا گیا اور قابیل کی کوشش ناکام ہوگئی۔ چنانچہ قابیل اپنے بھائی سے نفرت کرنے لگا یہاں تک کہ اس کو مارنے کے درپے ہوگیا۔ جبکہ اس بارے میں ایک قصہ مشہور ہے کہ ہابیل اور قابیل میں اختلاف کی بنیادی وجہ ایک لڑکی تھی جو قانونی طور پر ہابیل کے نکاح میں آنی تھی لیکن قابیل اس پر حق جتانا چاہ رہا تھا۔ اس واقعہ کی کوئی اصل نہیں اور یہ محض اسرائلی روایات سے ہمارے ہاں آگیا ہے۔اس ضمن میں معتدل رویہ یہی ہے کہ ہم خود کو قرآن کے بیان تک ہی محدود رکھیں۔ اس قصے کا مرکزی خیال یہ ہے کہ اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کا واحد ذریعہ تقویٰ اور خوف خدا ہے، محض انسان کی خواہش پر خدا کی خوشنودی حاصل نہیں ہوتی۔ نیز حسد کی آگ انسان کے اپنے آپ کو جلادیتی اور اسے دنیا و آخرت میں برباد کرکے چھوڑتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں