آج کل ایسے تین گناہ عام ہیں جوہماری نیکیوں کوخشک تنکوں کی طرح جلا کرراکھ کردیتے ہیں

کچھ گناہ ایسے سنگین ہوتے ہیں جوہماری نیکیوں کواس طرح ختم کردیتے ہیں جیسے آگ خشک تنکوں کوجلاکرراکھ کردیتی ہے۔ان گناہوں کاارتکاب کرنے والے اگرچہ روزمحشراتنی نیکیوں کے ساتھ آئیں جوپہاڑکے برابرہوں لیکن ان کے کبیرہ گناہوں کے سبب یہ نیکیاں راکھ کے ذروں سے بڑھ کرثابت نہیں ہوں گی۔علماء کرام ان کیبرہ گناہوں کاتذکرہ کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ خالق کی مقررکردہ حدود سے سرکشی کرنابڑی بڑی نیکیوں کوبھی ضائع کرنے کاسبب بن جاتاہے۔اسی طرح سرعام گناہ کرتے ہیں یاگناہ کی تشہیرکرتے ہیں ان کی نیکیاں بھی ان کے کسی کام نہ آئیں گی۔یہ وہ لوگ ہیں جن کے گناہوں پرپردہ پڑاتھالیکن انہوں نے خودہی یہ پردہ اٹھاکراپنے گناہوں کودنیاکے سامنے فاش کردیا۔اسی طرح خداکاشریک ٹھہرانے والوں سے بڑھ کرخسارے میں کوئی نہیں۔خداکے علاوہ کسی کی عبات کرنے والوں یاکسی کو معبود قراردینے والوں کے نیک عمل بھی روزمحشران کے کسی کام نہ آئیں گے۔بلاشبہ خدابڑامعاف کرنے والاہے یعنی ہمیں چاہیے کہ جونہی دل میں احساس گناہ بیدارہوتواپنے گناہوں پرندامت کااظہارکریں اورمعافی کے طلبگارہوں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں