خوشبو لگانا سنت ہے مگر نماز کے وقت وہ کون سی خوشبو ہے جسے استعمال کرنا جائز نہیں

(www.dailyajknews.com)عبادات سے قبل خوشبو لگانا سنت ہے، نماز جمعہ اور عیدین کے علاوہ معمول کی عبادات کے وقت مسلمان خوشبو کے استعمال کو ترجیحاََ پسند کرتے ہیں اور اس کا استعمال کرتے ہیں لیکن اپنی لاعلمی کے باعث اکثر مسلمان ایسی خوشبو (پرفیومز) کا استعمال کر جاتے ہیں جن کی دین اسلام میں ممانعت فرمائی گئی ہے ۔ جامعۃ العلوم الاسلامیہ بنوریہ کراچی کے ایک فتویٰ کی رو سے ایسی پرفیومز جن میں کیمیکل ہوں انہیں لگانے سے گریز کرنا چاہئے۔ کیونکہ جو الکوحل انگور،کشمش اورکھجورکی شراب سے بنتا ہے وہ مطلقاً نجس ناپاک ہے،اس کی ادنیٰ سے ادنیٰ مقدار کسی چیز میں پڑجائے تواس کو ناپاک کردیتی ہے لہٰذا ایسا پرفیوم جس میں موجود الکوحل ان تین اشیاء میں سے کسی ایک کی شراب سے حاصل ہواہوتو ناپاکی کی بناء پر ایسا پرفیوم استعمال کرنا جائزنہیں ہے چاہے وہ الکوحل اُڑے یا نہ اُڑے، البتہ جن پر فیومزمیں موجود الکوحل ان تین اشیاء میں سے کسی کا نہ ہو بلکہ ان کے علاوہ کسی اورچیزسے حاصل کرکے پرفیوم میں ملادیا گیا ہو تو تو ایسے پرفیوم کے استعمال کی گنجائش ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں