جسٹس حافظ محمدظہورالٰہی کاہم جماعت ساتھیوں کے ہمراہ مادرِ علمی کادورہ،مدارس کے بارے میں ایسی بات کہہ دی کہ مسلمانوں کے سرفخرسے بلندہوگئے

چک سواری(www.dailyajknews.com)دینی وعصری علوم کی عظیم درس سگاہ دارالعلوم اسلامیہ رضویہ چکسواری کے فارغ التحصیل علماء کرام برائے سیشن2002-2009کااپنی مادرِ علمی کادورہ۔اس موقع پردارالعلوم کی انتظامیہ کی طرف سے سابق طالب علموں کے اعزازمیں پروقارتقریب کاانعقاددارالعلوم کے وسیع ہال میں کیاگیا جس میں سابق طالب علموں سمیت دارالعلوم کے منتظمین،پرنسپل،اساتذہ کرام اورزیرتعلیم طلباء نے شرکت کی۔تقریب کے مہمانِ خصوصی دارالعلوم کے سابق طالب علم جسٹس حافظ محمدظہورالٰہی سینئرسول جج برنالہ تھے اورتقریب کی صدارت ادارے کے مہتمم حاجی چودھری محمدرفیق نے کی۔تقریب کاباقاعدہ آغازتلاوتِ کلامِ پاک سے کیاگیاجس کی سعادت سابق طالب علم ریاستی ایوارڈیافتہ قاری علامہ حافظ راشدحسین نقشبندی خطیب جامع مسجدکالاگجراں جہلم نے حاصل کی اورہدیہ نعت بحضورسرورکائناتﷺپیش کرنے کی سعادت سابق طالب علم علامہ محمدظفرخان زاہدی خطیب جامع مسجدپلندری کوحاصل ہوئی جبکہ نظامت کے فرائض علامہ محمدرفیق نقشبندی خطیب جامع مسجداسلام گڑھ نے سرانجام دیے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مہمانِ خصوصی جسٹس حافظ محمدظہورالٰہی سینئرسول جج برنالہ نے کہاکہ دارالعلوم ہذاسے تعلیم حاصل کرنے کے بعدانٹرنیشنل اسلامک یونی ورسٹی اسلام آبادسے قانون کی ڈگری حاصل کی اورپھراسلام آبادمیں وکالت کرنے کے ساتھ ساتھ انسانی حقوق کے وکیل کے طورپریورپ،افریقہ سمیت دنیاکے متعددممالک میں جانے کااتفاق ہوامگریقین کریں کہ زمانہ طالب علمی سے لے کرآج تک سب سے حسین ویادگارلمحات وہی ہیں جواس مادرِ علمی میں گزرے ۔انہوں نے کہاکہ بعض حضرات مدارس سے حاصل کی گئی تعلیم کاتعارف کراتے ہوئے ہچکچاتے ہیں مگرمیں آج تک دارالعلوم اسلامیہ رضویہ کاطالب علم ہونے کاتعارف فخرسے کراتاہوں۔انہوں نے کہاکہ جسٹس پیرمحمدکرم شاہ الازہری کی بصیرت اورسوچ کوسلام پیش کرتاہوں جنہوں نے وقت کے تقاضوں کے مطابق درس نظامی کانصاب تیارکیا۔دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریف سرگودھااوراس سے منسلک مدارس سے فارغ التحصیل علماء کرام تمام شعبہ ہائے زندگی میں اپنی صلاحیتوں کالوہامنوارہے ہیں۔انہوں نے ادارے میں زیرتعلیم طلباء کے نام اپنے پیغام میں کہاکہ اپنی زندگی کاکوئی مقصدبنالیں کیوں کہ بناء مقصدکے تعلیم حاصل کرنے اورزندگی گزارنے کاکوئی فائدہ نہیں۔انہوں نے کہاکہ انٹرنیشنل اسلامک یونی ورسٹی اسلام آباد کی کلاس میں پہلے دن اُستادمحترم نے تمام طلباء سے پوچھاکہ آپ نے اس یونی ورسٹی اوراس کورس میں داخلہ کیوں لیاتواُس وقت میں نے کہاتھاکہ میں قانون کی تعلیم حاصل کرکے غریب،مسکین اوربے سہاراعوام کاسہارابنناچاہتاہوں پھراللہ کریم نے مجھے اس کابھرپورموقع فراہم کیا۔اب میں جس عدالت میں بطورجج تعینات ہوں وہ ابتدائی سطح کی ہے اوریہاں ہرخاص وعام اورغریب وامیرآتے ہیں۔میری آپ سب شرکاء سے درخواست ہے کہ میرے حق میں دعافرمائیں کہ اللہ کریم مجھے اپنے منصب کاحق اداکرنے کی توفیق وہمت عطافرمائے۔انہوں نے کہاکہ میں دارالعلوم کے بانی ومہتمم حاجی چودھری محمدرفیق،اُن کے دیگررفقاء،ادارے کے جملہ اساتذہ کرام کاتہہ دل سے مشکورہوں جن کی محبتوں اورعنایات کی بدولت آج نہ صرف ہماری کلاس بلکہ ادارے سے فارغ التحصیل ہزاروں طلباء علمی زندگی میں کامیابیوں کے جھنڈے گاڑھ رہے ہیں اورمیں اللہ کریم سے ان سب کے لیے جزائے خیرکاطالب ہوں۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ادارے کے سابق طالب علم علامہ حافظ راشدحسین نقشبندی نے کہاکہ آج سے تقریباً16سال قبل اسی ہال میں ہم سب نے داخلہ ٹیسٹ دیاتھا جسے پاس کرنے کے بعد سات سال اس مادرِ علمی میں زیرتعلیم رہے۔یہاں گزراوقت ہماراسرمایہ حیات ہے تبھی ہم سب ہم جماعت پاکستان وآزادکشمیرکے دوردرازعلاقوں سے آج یہاں اکٹھے ہوئے ہیں تاکہ اس مادرِ علمی،اس کے منتظمین،اساتذہ کرام اوربالخصوص استادمحترم علامہ پروفیسرمحمدرشیدصارم مرحوم ومغفورکوخراجِ تحسین ومحبت پیش کرسکیں۔انہوں نے اپنے تمام موجود ہم جماعت ساتھیوں کاتعارف کراتے ہوئے بتایاکہ تقریباًسبھی ہم جماعت کامیاب علمی زندگی گزاررہے ہیں اوراکثرسرکاری ملازمت کے ذریعے ملک وقوم کی خدمت کررہے ہیں۔اس کے علاوہ تقریب سے مہتمم ادارہ حاجی چودھری محمدرفیق،پرنسپل علامہ جمیل حسین زاہدی نے بھی خطاب کیااورادارے کے سابق طالب علموں کی محبتوں اورشگرگزاری کاشکریہ اداکیا۔سیشن2002تا2009ء کے طالب علموں کی طرف سے ایک یادگاری شیلڈمہتمم ادارہ حاجی چودھری محمدرفیق کوپیش کی گئی اورادارے کے مرحوم پرنسپل علامہ پروفیسرمحمدرشیدصارم کے نام کی ایک یادگاری شیلڈ موجودہ پرنسپل واساتذہ کرام کوپیش کی گئی۔تقریب کے اختتام پردارالعلوم اسلامیہ رضویہ چکسواری کے شعبہ حفظ کے صدرمدرس قاری محمدنورگل سیالوی نے اجتماعی دعاکروائی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں